Tariq Aziz (TV personality)

Tariq Aziz (TV personality)


انتہائی افسوس کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے طارق عزیز صاحب اب ہم میں نہیں رہے- میڈیا سیکرٹری

 اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے
اور جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے
آمین


دیکھتی آنکھو سنتے کانو آپ کو طارق عزیز کا سلام پہنچے۔۔۔۔ پاکستان میں بہترین اردو بولنے والے جو چند لوگ رہ گئے تھے ان میں سے ایک طارق عزیز تھے جو آج وفات پا گئے ہیں... اللہ انکو جنت الفردوس میں جگہ دے.

Tariq Aziz (Urdu: طارق عزیز‎, born 28 April 1936 – 17 June 2020) was a Pakistani film actor, television show host and politician, known for his work on the PTV's Quiz Show Neelam Ghar, first aired in 1974, later renamed the Tariq Aziz Show and later known as Bazm-e-Tariq Aziz. He also had been member of the National Assembly of Pakistan between 1997 and 1999.

Tariq Aziz
Born 28 April 1936
Jalandhar, Punjab, British India
Died 17 June 2020 (aged 84)
Lahore, Punjab, Pakistan
Nationality Pakistani
Occupation Actor, Television show host
Years active 1964–2020
Known for Bazm-e-Tariq Aziz TV Show
Television Neelam Ghar TV Quiz Show
Office Member of National Assembly of Pakistan (1997-1999)
Awards Pride of Performance




’دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں‘ کو طارق عزیز کا آخری سلام


پاکستانی ٹیلیویژن کی تاریخ میں کئی دہائیوں تک چلنے والے پروگرام ’نیلام گھر‘ سے شہرت پانے والے میزبان طارق عزیز وفات پا گئے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق ان کا انتقال لاہور میں ہوا۔ طارق عزیز کی عمر 84 برس تھی۔

جالندھر میں پیدا ہونے والے طارق عزیز نے اپنے کریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا تھا اور 1964 میں جب پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا تو وہ وہاں کام کرنے والی اولین شخصیات میں سے ایک تھے۔

طارق عزیز نے پاکستان ٹیلیویژن کی پہلی نشریات کی میزبانی بھی کی تھی۔

انھیں اصل شہرت پاکستان ٹیلیویژن پر 1975 میں شروع ہونے والے پروگرام ’نیلام گھر‘ سے ملی۔

ان کا یہ پروگرام شروع کرنے کا انداز ’دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام‘ بہت مشہور ہوا تھا۔

40 برس سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والے اس پروگرام کو بعدازاں ’بزم طارق عزیز‘ کا ہی نام دے دیا گیا تھا۔

طارق عزیز نے ریڈیو اور ٹی وی کے علاوہ فلموں میں بھی کام کیا تھا۔ ان کی مشہور فلموں میں سالگرہ، قسم اس وقت کی اور ہار گیا انسان شامل ہیں۔

طارق عزیز نے پاکستان ٹیلیویژن کی پہلی نشریات کی میزبانی بھی کی تھی
پاکستان کی حکومت نے طارق عزیز کی خدمات کے صلے میں انھیں 1992 میں صدارتی تمغۃ حسنِ کارکردگی سے نوازا تھا۔

طارق عزیز کے کالموں کا مجموعہ ’داستان‘ کے نام سے جبکہ پنجابی شاعری کا مجموعہ کلام ’ہمزاد دا دکھ‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔

طارق عزیز نے سیاست کے میدان میں بھی زورآمائی کی تھی اور جہاں زمانۂ طالبعلمی میں وہ پاکستانی پیپلز پارٹی کے حامی تھے وہیں 1997 میں وہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

طارق عزیز کی وفات کی خبر آتے ہی سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ طارق عزیز ٹرینڈ کرنے لگا اور صارفین نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتی ہوئے نیلام گھر شو سے وابستہ اپنی یادوں کا تذکرہ بھی کیا۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے طارق عزیز کی وفات پر ان کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اپنے وقت کے آئیکون اور ٹی وی گیم شوز کی بنیاد رکھنے والے تھے۔

ٹی وی میزبان اور اداکار واسع چوہدری نے طارق عزیز کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اپنے پروگرام میں اگر کبھی کسی مہمان سے پروگرام کا آغاز کرنے کی درخواست کی تو وہ صرف طارق عزیز سے ہی کی تھی۔

ان کے مطابق اگرچہ ضعیف العمری کی وجہ سے مائیک تھامتے ہوئے طارق عزیز کے ہاتھ کپکپا رہے تھے لیکن جیسے ہی کیمرہ آن ہوا ان کی وہی آواز بلند ہوئی جو ان کا ٹریڈ مارک بن چکی تھی۔

اداکارہ اور مارننگ شو کی میزبان صنم بلوچ نے لکھا: 'ایک اور لیجنڈ آج ہمیں چھوڑ گیا۔ ہم سب ان کا شو دیکھتے بڑے ہوئے۔'

گلوکار علی ظفر نے لکھا:'ہم اپنے ہیروز کو بہت جلد بھول جاتے ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ کو کبھی نہیں بھلایا جائے گا۔'

اداکارہ ماورا حسین نے لکھا: میرے بچپن کا ایک بڑا حصہ۔ اپنے گیم شو سے ہمیں لطف اندوز کرنے کا بہت شکریہ۔'

صارف فرخ شہزاد نے لکھا کہ ’میں یہ کہنا چاہوں گا کہ آج ہم سب نے اپنے بچپن کا کچھ حصہ کھو دیا۔

سلمان صوفی فاؤنڈیشن کے بانی سلمان صوفی نے لکھا: 'طارق عزیز جدید دور کے کوئز شوز کے بانی تھے۔ انھوں نے بہت سے لوگوں کو خوش کیا اور صرف یہی چیز اہمیت رکھتی ہے۔‘

موسیٰ چیمہ نے لکھا کہ ’ایک ایسا لیجنڈ دنیا سے چلا گیا جو اپنی ذات میں خود ایک دنیا تھا۔'

Post a Comment

0 Comments