Why do jeans have this little pocket?
You might have seen a small pocket on the front pocket of your jeans pants right? But ever wondered why she exists?
Or how did these little pockets become part of the jeans? Here we have tried to answer the same question.
In fact, this pocket pocket watch or pocket watch was made for jeans pants and the idea of making it part of jeans came from American Boys.
In the early 1800's, the Cowboys wrapped their pocket watches in China and placed them in the West Coast, often breaking them.
Keeping this in mind, well-known company Lewis introduced this small pocket watch.
While it was possible for cowboys to keep their pocket watch safely in this pocket, it was also very easy to access.
But this pocket can be used for other things as well.
According to the well-known company Levis, this pocket is not only helpful for holding finger rings or small jewelry, but it can also hold bottles, USBs, coins, thread, mini iPods, battery seals, and more. That you can see for yourself in the video.
جینز میں یہ چھوٹی جیب کیوں ہوتی ہے؟
آپ نے اپنی جینز کی پتلون کے آگے کی دائیں جانب کی جیب کے اوپر ایک چھوٹی سی پاکٹ تو دیکھی ہوگی؟ مگر کبھی سوچا کہ وہ کیوں موجود ہوتی ہے؟
یا یہ چھوٹی پاکٹ جینز کا حصہ کیسے بنی؟ یہاں ہم نے اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔
درحقیقت یہ پاکٹ جیبی گھڑی یا پاکٹ واچ کے لیے جینز کی پتلون کا حصہ بنائی گئی تھی اور اس کو جینز کا حصہ بنانے کا خیال امریکی کاﺅ بوائز کو دیکھ کر آیا تھا۔
1800 کے شروع میں کاﺅ بوائز اپنی جیبی گھڑیوں کو چین میں لپیٹ کر ویسٹ کوٹ میں رکھتے تھے جس کے نتیجے میں وہ اکثر ٹوٹ بھی جاتی تھیں۔
اسی کو دیکھتے ہوئے معروف کمپنی لیویز نے یہ چھوٹی جیب گھڑیوں کے لیے متعارف کرائی۔
کاﺅ بوائز کے لیے اس جیب میں اپنی جیبی گھڑی کو محفوظ طریقے سے رکھنا ممکن تھا جبکہ اس تک رسائی بھی بہت آسان تھی۔
مگر اس جیب کو دیگر چیزوں کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
مشہور کمپنی لیویز کے مطابق یہ جیب نہ صرف انگلی کے چھلوں یا ننھے زیورات کو رکھنے کے لیے انتہائی مددگار ہے بلکہ اس میں بوتلوں کے ڈھکن، یو ایس بی، سکوں، دھاگا، منی آئی پوڈ، بیٹری سیل اور دیگر چیزوں کو بھی رکھا جاسکتا ہے جو آپ ویڈیو میں خود بھی دیکھ سکتے ہیں۔


0 Comments